اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، خلیج فارس کے عرب ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں سے غیر ملکی سرمائے کے مسلسل انخلا نے مالیاتی منڈیوں میں ایک غیر معمولی صورت حال پیدا کردی ہے۔ ایک طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے، لیکن دوسری طرف خطے کی بڑی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کی کشش کم ہوگئی ہے۔
العربی الجدید اخبار کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی تازہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج فارس سے ایشیائی ممالک تک خام تیل لے جانے والے بڑے آئل ٹینکروں کا یومیہ کرایہ 13 لاکھ ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے، جبکہ فی بیرل تیل کی ترسیل پر آنے والا خرچ بھی 37 ڈالر سے زیادہ ہوگیا ہے۔ اس صورت حال نے خلیج فارس کے عرب ممالک کے تیل برآمد کنندگان کی خالص آمدنی پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ان ممالک کی تیل کی برآمدات کو پیچیدہ لاجسٹک اور سکیورٹی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان مشکلات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ ان ممالک کو اضافی آمدنی کی صورت میں نہیں مل رہا اور نہ ہی اس سے ان کی اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا مل پا رہا ہے۔
اسی حوالے سے توانائی اور تیل کے شعبے کی خصوصی ویب سائٹ رِگ زون کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے سے تیل کی فراہمی کو تاریخ کی غیر معمولی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اندازوں کے مطابق یومیہ تقریباً 30 لاکھ بیرل تیل کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ رواں ماہ کے آغاز میں آبنائے ہرمز میں حملوں میں شدت آنے کے بعد تیل کی برآمدات میں بھی کئی ملین بیرل کی کمی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 2027 کی پہلی سہ ماہی سے پہلے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی کم قرار دیا جا رہا ہے۔
110 ڈالر فی بیرل تیل اور علاقائی مالیاتی منڈیوں پر دباؤ
جمعرات کے روز تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد خطے کی مالیاتی منڈیوں پر معاشی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ عالمی سطح پر مالیاتی پالیسیوں میں سختی اور مختلف معیشتوں کے مالی تحفظ کے وسائل میں کمی بھی اس صورت حال کی اہم وجوہات ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں توانائی کی فراہمی کو پہنچنے والا دھچکا مختلف ممالک کے مالی ذخائر اور ہنگامی وسائل کو کمزور کر رہا ہے۔ اس کے باعث ترقی یافتہ معیشتوں میں سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہے۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کا امکان ہے۔ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے زیادہ خطرے والے اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان کم ہوتا ہے اور حکومتوں پر سرکاری اخراجات محدود کرنے کا دباؤ بڑھتا ہے۔
اسی پس منظر میں 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران خلیج فارس کے عرب ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر تقریباً 2.3 ارب ڈالر نکال لیے۔ یہ 2018 اور 2019 کے بعد خطے سے سرمائے کے انخلا کی سب سے بڑی مقدار ہے۔
یہ اعداد و شمار ترکی کی باشک شہیر یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات اور مالیاتی انتظام کے استاد فراس شعبو نے العربی الجدید سے گفتگو کرتے ہوئے پیش کیے ہیں۔
تاہم شعبو کے مطابق، اس سرمائے کے انخلا کا یہ مطلب نہیں کہ تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود سرمایہ کار خطے کی منڈیوں کی بنیادی معاشی صلاحیتوں کو منفی نظر سے دیکھ رہے ہیں، بلکہ یہ صورت حال براہ راست جغرافیائی و سیاسی خطرات اور تیل کی برآمدات میں کمی کا ردعمل ہے۔
ان کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے برآمدات کے حجم میں کمی کا ازالہ نہیں ہوسکا۔ ان کا اندازہ ہے کہ اس صورت حال کے نتیجے میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی معیشتیں تقریباً چار فیصد تک سکڑ سکتی ہیں۔
غیر ملکی سرمائے کے انخلا میں سعودی عرب سب سے آگے
ان اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاری کے انخلا سے سعودی عرب کی اسٹاک مارکیٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ اس مارکیٹ سے تقریباً 1.5 ارب ڈالر نکالے گئے، جو خطے سے نکلنے والے مجموعی سرمائے کے نصف سے بھی زیادہ ہیں۔
دبئی کی اسٹاک مارکیٹ سے تقریباً 40 کروڑ ڈالر جبکہ کویت کی مارکیٹ سے 25 کروڑ ڈالر نکالے گئے۔
فراس شعبو کے مطابق، یہ اعداد و شمار غیر ملکی سرمایہ کاروں، خصوصاً ان سرمایہ کاروں کی حساسیت ظاہر کرتے ہیں جو اہل غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پروگرام کے ذریعے علاقائی منڈیوں میں داخل ہوئے تھے۔ یہ سرمایہ کار کسی بھی غیر یقینی صورت حال پر فوری ردعمل دیتے ہیں اور خطرہ محسوس ہوتے ہی اپنا سرمایہ تیزی سے دوسری منڈیوں اور مقامات پر منتقل کردیتے ہیں۔
اسی حوالے سے ماہر اقتصادیات اور مالیاتی مشیر علی احمد درویش نے العربی الجدید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور علاقائی تنازعات کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری کے فنڈز نے تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ رہنے کے باوجود خلیج فارس کے عرب ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں سے تقریباً 2.3 ارب ڈالر نکال لیے ہیں۔
ان کے مطابق، یہ فنڈز اپنی سرمایہ کاری کو ایسے اثاثوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں فوری طور پر نقد رقم میں بدلا جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی یورپ اور خطے میں جاری تنازعات اور عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے کم خطرے والی سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
نقل و حمل اور بیمے کے اخراجات تیل کی آمدنی کم کر رہے ہیں
دوسری جانب، سمندری نقل و حمل اور بیمے کے اخراجات غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں، جس سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی آمدنی پر دباؤ پڑ رہا ہے۔
بحری تجارت اور جہاز رانی کی خصوصی ویب سائٹ ہیلینک شپنگ نیوز کی گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی آمدورفت میں 95 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ قطر سے برآمد ہونے والی مائع قدرتی گیس کی ترسیل بھی 93 فیصد کم ہوگئی ہے۔
اس کے علاوہ بڑی بیمہ کمپنیوں نے سعودی عرب کی بندرگاہوں سے متعلق جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس کوریج معطل کردی ہے۔ اس اقدام کے باعث خلیج فارس کے عرب ممالک میں توانائی کی کمپنیوں کو براہ راست آئل ٹینکرز خریدنے کی طرف جانا پڑ رہا ہے۔
لاجسٹک مشکلات نے خطے کے ممالک کے مالیاتی توازن کو بھی متاثر کیا ہے، کیونکہ نقل و حمل اور بیمے کے اخراجات میں غیر معمولی اضافے سے ان ممالک کی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدنی کم ہو رہی ہے۔
علی احمد درویش کے مطابق، آئل ٹینکروں کا یومیہ کرایہ 80 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 12 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے خزانے میں جانے کے بجائے جہاز رانی اور بیمہ کمپنیوں کے پاس جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی کشیدگی اور زمینی صورت حال میں تبدیلیوں سے تیل کی برآمدات کا معمول کا عمل متاثر ہوتا ہے، لیکن اس کا لازمی نتیجہ ملکی معیشت میں بہتری کی صورت میں نہیں نکلتا۔
غیر ملکی سرمائے کا انخلا سعودی بینکاری نظام کے لیے فوری خطرہ نہیں
اس کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ نکالنے کو سعودی عرب کے بینکاری نظام کی نقدی یا استحکام کے لیے فوری خطرہ قرار نہیں دیا جا رہا۔
خصوصاً اس لیے کہ 2025 میں سعودی بینکوں میں جمع کرائی گئی رقوم میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جس سے ایک مخصوص مدت تک مالیاتی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری وسائل دستیاب ہیں۔
فراس شعبو کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے غیر ملکی سرمایہ کار پہلے سے اپنے پاس موجود اثاثوں کے ذریعے سرمایہ نکال رہے ہوں اور انہیں مقامی بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑ رہی ہو۔ اس صورت میں بینکوں کی مالیاتی صورت حال پر دباؤ کم رہتا ہے، تاہم اس سرمائے کے اصل ذرائع کے بارے میں درست معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
مقامی سرمایہ کار غیر ملکی سرمائے کی کمی پوری کرنے سے قاصر
دوسری جانب، مقامی سرمایہ کار اور قومی مالیاتی ادارے بھی غیر ملکی سرمائے کے انخلا سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
علی احمد درویش نے اس صورت حال کے تین اہم پہلو بیان کیے ہیں۔
ان کے مطابق، انفرادی سرمایہ کار بڑی اور اہم کمپنیوں کے حصص خریدنے کی کوشش کرسکتے ہیں، لیکن ان کی مالی استعداد محدود ہے۔
حکومتوں کی ترجیح اس وقت معاشی استحکام برقرار رکھنا اور بنیادی اخراجات پورے کرنا ہے تاکہ جنگ کے دوران کم از کم معاشی استحکام قائم رکھا جاسکے۔ اسی وجہ سے حکومتیں اسٹاک مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر براہ راست سرمایہ لگانے سے گریز کر رہی ہیں۔
دوسری جانب، بلند شرح سود اور تنازعات میں شدت کے باعث ممکنہ نقصانات کے خدشات کی وجہ سے بینک بھی بانڈز اور حصص میں بڑی سرمایہ کاری سے دور رہ رہے ہیں۔
اس صورت حال میں خلیج فارس کی بڑی کمپنیوں کی مالی پوزیشن کو سہارا دینے کے لیے حکومتی پشت پناہی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، خصوصاً نقدی کی کمی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے۔
کریڈٹ ریٹنگ اور تحقیقی ادارے فیچ ریٹنگز کی 21 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، سرمایہ جاتی اخراجات اور حصص یافتگان کو منافع کی ادائیگیوں میں اضافے کے باعث کمپنیوں کی آزاد نقدی کا بہاؤ منفی سطح پر برقرار ہے۔
تاہم خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک میں سرکاری ملکیت اور حکومتوں کی جانب سے سرکاری کمپنیوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت، ایران کے خلاف جنگ کے اثرات سے ان کمپنیوں کی مالی ساکھ اور نقدی کی صورت حال کو پہنچنے والے نقصان میں کمی کر رہی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی واپسی کن عوامل سے مشروط ہے؟
علاقائی اسٹاک مارکیٹوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے دوبارہ آغاز اور حصص کی خریداری کے لیے چند واضح تبدیلیاں ضروری ہیں۔
فراس شعبو کے مطابق، ان میں سب سے اہم خلیج فارس کے عرب ممالک کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں کمی اور ہنگامی حالات کے باعث عائد برآمدی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض ممالک نے اپنی برآمدات پر ایسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
اس کے علاوہ رواں سال کی تیسری سہ ماہی کی مالیاتی رپورٹس میں بینکوں اور توانائی کی کمپنیوں کے منافع میں استحکام بھی سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرسکتا ہے اور مالیاتی منڈیوں پر ان کا اعتماد بتدریج بحال کرسکتا ہے۔
سکیورٹی کی ان شرائط کے ساتھ سمندری راستوں کی صورت حال بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین نے 14 اکتوبر کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں آبنائے ہرمز کے قریب دو کنٹینر بردار جہازوں کے ڈوبنے اور دو ہفتوں کے دوران 24 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی خبر دی تھی۔ نشانہ بننے والے جہازوں میں خام تیل لے جانے والے دو اور پیٹرولیم مصنوعات کے تین ٹینکر بھی شامل تھے۔
یہ واقعات آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق علاقائی مذاکرات ملتوی ہونے کے ساتھ پیش آئے۔ گارڈین کے مطابق، یہ صورت حال سمندری حملوں میں دانستہ شدت اور توانائی کی فراہمی میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کار جنگ کے مستقبل کے بارے میں وضاحت کے منتظر
ان حالات میں خلیج فارس کی اسٹاک مارکیٹوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کا رجحان براہ راست زمینی صورت حال سے متاثر ہو رہا ہے۔
فراس شعبو کا خیال ہے کہ اگر خطے کے حالات بہتر ہوتے ہیں اور صورت حال معمول پر آتی ہے تو غیر ملکی سرمایہ کار بھی تقریباً اسی رفتار سے بتدریج واپس آسکتے ہیں جس رفتار سے انہوں نے اپنی سرمایہ کاری نکالی ہے۔ اس عمل میں معاشی اور سکیورٹی اشاریوں کا مستحکم ہونا دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے سب سے اہم محرک ہوگا۔
علی احمد درویش نے بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کی بڑی کمپنیوں کے حصص خریدنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی واپسی کا انحصار جغرافیائی و سیاسی تنازعات کی سمت واضح ہونے پر ہے۔
ان کے مطابق، موجودہ حالات اور مستقبل کے بارے میں واضح امکانات نہ ہونے کے باعث یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ سرمایہ کار مستقبل قریب میں دوبارہ ان مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کا حتمی فیصلہ کریں گے۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ ایران کے خلاف جنگ طویل ہونے کی صورت میں سرمایہ کاری کے وسائل بتدریج ختم ہوتے جائیں گے۔
درویش نے آخر میں زور دیا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے خطے کے تمام ممالک کو احتیاط سے کام لینے اور مالیاتی نظم و ضبط کی پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے، تاکہ حکومتیں جنگ طویل ہونے اور علاقائی منڈیوں پر اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔
آپ کا تبصرہ